Wednesday, 11 July 2012

ہم اور ہمارا ایمان

ایمان کےبار ے  میں نجانے کیوں ذہن میں سوال جنم لے رہے ہیں ۔
ایمان ہوتا کیا ہے؟
ایمان کے ارکان کیا ہیں؟
آیا ہم ایمانی زندگی گزار رہے ہیں یا نہیں؟
ہم ایمان کے اور یقین کے کس درجے پر کھڑے ہیں۔
جوابات کی تلاش میں کتابوں سے مدد مانگی
قرآن میں مندرجہ ذیل آیات دیکھنے کو ملیں

ایمان بمطابق قرآن:
قرآن میں اللہ تعالی فرماتا ہے

جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اس کے لئے کافی ہوتا ہے (القران سورہ طلاق آیت نمبر 3)

اللہ مشرق اور مغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم اسی کو اپنا وکیل بناو ( القرآن سورہ مزمل آیت نمبر 9)

ایمان والوں کو اللہ پر ہی توکل کرنا چاہئے (القران سورہ توبہ آیت نمبر 51)

یعنی اللہ مومینین سے کہ رہا ہے کہ اللہ کے علاوہ توکل ہوتا ہی نہیں اگر ہوتا ہے تو پھر انسان اللہ کے علاوہ جس سے بھی امید رکھتا ہے وہ امید ہمیشہ مایوسی کی صورت ظاہر ہوتی ہے۔
کیوں؟
کیونکہ اللہ نے صاف صاف فرمادیا کہ ایمان والوں کو صرف اللہ پر ہی توکل کرنا چاہئے، جو غیر اللہ پر توکل کرے کیا اس کے ایمان کی سلامتی کی ضمانت دی جا سکتی ہے؟

آگے چلتی ہیں ایمان کی تعریف بمطابق حدیث دیکھتے ہیں

ایمان بمطابق حدیث:

علامہ حسن مصطفوی کی تالیف "لقا اللہ" کا ترجمہ ڈاکٹر سید نیاز محمد ہمدانی کی معرفت پڑھنے کا موقع ملا جس کے ذریعے مندرجہ ذیل حدیث نظروں سے گزری

اصول کافی باب خصال المومینین میں امیر المومینین علیہ سلام فرماتے ہیں کہ ایمان کے چار ارکان ہوتے ہیں

1۔اللہ پر توکل کرنا
2۔اپنا کام اس کے سپرد کرنا
3۔ اس کے فیصلے پر راضی رہنا
  اللہ کے حکم کو مکمل تسلیم کرنا
اب اس حدیث کے مطابق کیا ہم ان چاروں ارکان میں سے کسی ایک رکن پر بھی عمل پیرا ہیں؟
جواب اپنے آپ سے پوچھئے

ہمارا کلمہ کیا ہے؟
لا الہ الا للہ محمد رسول اللہ
مجھے معاف کیجئے گا محمد کی رسالت کے بارے کچھ سن کر تو ہم اتنے جزباتی ہو جاتے ہیں کہ قتال تک پر آمادہ ہو جاتے ہیں، لیکن کلمہ کے پہلے جز کے بارے ہماری زبانیں گنگ اور جذبات بے عمل ہو جاتے ہیں

لا الہ الاللہ کا مطلب ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
معبود کا مطلب جس کی عبادت کی جا سکے اور جس سے حاجات طلب کی جا سکیں
کیا ہمارا معبود واقعی اللہ ہے؟
کیا ہم محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں؟
کیا ہم اللہ پر توکل کرتے ہیں؟
جواب  میں مجھے مندرذیل چیزیں نطر آئیں
کہ آج
ہمارا توکل اوہام اور رسوم پرستی پر مبنی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ھضرت عیسی ٰعلیہ سلام کے زمانے میں یہودی مذہب رسوم میں پھنسا تھا ، اور پھر عیسائیت اوہام پرستی کا شکار ہوئی کہ جب پندرھویں صدی عیسوی میں لوگ مقدس شخس کی ہڈیوں پر مشتمل صندوق کی تعظیم کرتے تھے اور مقدس افراد کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے تھے، آج غور کریں تو ہم میں سے اکثریت بھی اسی طرز کے اوہام اور رسم پرستی  میں مبتلا ہیں ہمارا توکل ،چاہے ہم کسی بھی مسلک  یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں، اللہ تعالیٰ پر نہیں رہا اور ہم مشترکہ طور پرسب تعلیمات کو چھوڑ کر اوہام پر توجہ دے رہے ہیں۔
ہم اگر شیعہ ہیں تو کبھی ہمارا معبود شبیہ ذوالجناح تو کبھی شبیہ باب الحوائج۔
بریلوی ہیں تو ہم گرومندر پر خانہ خدا کی شبیہ کا طواف کرتے ہیں
اہلسنت ہیں تو اولیاء اللہ کے مزارات ہماری حاجت روائی کا ذریعہ ہیں
آج ہم سب کا  مشترکہ ایمان یہ ہے کہ ہماری عملی زندگی جیسی بھی ہو فلاں تسبیح پڑھ کر ہم نجات پا جائیں گے۔
ایک شخص کوئی خاص تسبیح پڑھتا ہے کیونکہ وہ سوچتا ہے کہ اس سے وہ کسی خاص بیماری سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
دوسرا ستاروں کی چال کے مطابق مخصوص اوقات میں دعا کرتا ہے تاکہ دشمن کے شر سے محفوظ رہ سکے۔
مخصوص دن روزہ رکھتا ہے تاکہ اس کے دانت کا درد رفع ہو سکے۔
مختلف اولیا ء اللہ کے مزار پر سجدہ کرتا ہے تاکہ اسے مصائب سے نجات ملے ۔
حقیقت میں ہم اللہ پر توکل کے بجائے بہت سارے خدا  اور ایسے ہی خدا جیسے بت پرستوں کے خداوں پر انحصار کرتے ہیں  ۔
یہ قرآن کریم اور نبی کریم صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات نہیں بلکہ اس رومی دیوتا کا تصور ہے کہ ہم ہرکیولیس کہ آگے اپنی وہ یکی رکھیں تاکہ ہم دولت مند ہو جائیں۔
آسکولیپس کے آگے مرغ پیش کریں تاکہ بیماری سے شفا پائیں
یا نیپچون کے آگے بیل ذبح کریں تاکہ ہمارا سفر ہمیں مبارک ہو ۔مقصد وہی بس نام بدل گئے۔
اپنے آپ کو اور اپنے آس پاس ضرور دیکھیں نجانے ایسی کتنی ہی چیزیں نظر آئیں گی چاہے آپ کسی بھی مسلک و عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں یہ سب ہر جگہ ہے۔
جب مشاہدہ کر چکیں تو سوال کریں اپنے آپ سے کہ ہمارا توکل کس پر ہے
کیا مذاق ہے
مذہب کے نام پر اپنے ساتھ
جھوٹے ملا، جھوٹے خدا اور جھوٹے ہم